28 اگست 2013 - 19:30
شام پر حملے کی سازش، عربی محاذ کی خیانت

شام مخالف مغربي اور رجعت پسند عرب محاٍذ نے شام پر حملے کے لئے، اردن ميں دس مغربي اور عرب حکومتوں کے فوجي کمانڈروں کے اجلاس ميں اتفاق رائے حاصل ہونے کا دعوي کيا ہے ۔ اس محاذ نے اعلان کيا ہے کہ اس اتفاق رائے سے شام پر حملے کا راستہ بقول ان کے کھل گيا ہے ۔

ابنا: اردن کے ايک فوجي عہديدار نے کہا ہے کہ مغربي اور عرب سربراہ اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ شام کے خلاف اقدام ضروري ہوگيا ہے ۔ اردن کے اس فوجي کمانڈر کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف شديد ترين ردعمل ميزائلي حملے کي شکل ميں ظاہر کيا جائے گا ۔  اردن ميں مغرب اور رجعت پسند حکومتوں کے محاذ ميں شامل فوجي کمانڈروں کا يہ اجلاس،  جس ميں برطانيہ، امريکا، فرانس، اٹلي، کنيڈا، سعودي عرب،  قطر، ترکي اور اردن کے فوجي کمانڈروں نے شرکت کي،  امريکا اور اس کے اتحاديوں کے اس بے بنياد دعوے کے بعد منعقد ہوا کہ شام کي حکومت نے گزشتہ بدھ کو دمشق کے مضافات ميں واقع مشرقي غوطہ نامي علاقے ميں کيميائي اسلحے استعمال کئے ہيں ۔رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ اجلاس ميں شام پر حملے کے ساتھ ہي نوفلائي زون قائم کرنے کي راہوں کا بھي جائزہ ليا گيا۔ رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ اس اجلاس ميں  شروع ميں اتفاق رائے حاصل نہيں ہوسکا تھا اور سعودي عرب، امريکا ، برطانيہ اور فرانس کے کمانڈروں کا اصرار تھا کہ شام پر وسيع ہوائي حملہ کيا جائے جس کے ديگر ممالک مخالف تھے ۔ سرانجام اس اجلاس ميں بحيرہ عمان ميں بحري جنگي جہازوں کے ذريعے، محدود ميزائلي اور ہوائي حملے پر اتفاق کيا گيا۔اسي کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارني نے شام کي حکومت پر کيميائي اسلحے کے استعمال کا الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس محدود حملے کا مقصد شام ميں حکومت کي تبديلي نہيں ہے ۔ جے کارني نے اسي کے ساتھ دعوي کيا کہ امريکا کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ بقول ان کے  شام کي حکومت نے کيميائي اسلحے استعمال کئے ہيں ۔دوسري جانب امريکي وزارت جنگ پنٹاگون کے ايک عہديدار نے کہا ہے کہ امريکي حکومت شام کے خلاف فوجي اقدام کے لئے اقوام متحدہ کا سہارا نہيں لے گي ۔ اسي کے ساتھ بعض امريکي اور صيہوني ذرائع نے اعلان کيا ہے کہ جمعرات سے شام کے خلاف ميزائلي حملے شروع ہوں گے جو تين دن تک جاري رہيں گے ۔

.......

/169